Skip to main content

قرآن مجید کے سترھواں پارہ کے بارے میں ایک مختصر نوٹ

 اس پارے میں دو حصے ہیں:

۱۔ سورۂ انبیاء

۲۔ سورۂ حج


(۱) سورۂ انبیاء میں تین باتیں یہ ہیں:

۱۔ قیامت

۲۔ رسالت

۳۔ توحید


۱۔ قیامت:

بتایا گیا ہے کہ قیامت کا وقوع اور حساب کا وقت بہت قریب آگیا ہے، لیکن اس ہولناک دن سے انسان غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔(۱)

نیز قربِ قیامت میں یاجوج اور ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ رہ بلندی سے اتر رہے ہوں گے۔(۹۶)

نیز مشرکین اور ان کے اصنام قیامت کے دن دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔(۹۸)

۲۔ رسالت:

رسالت کے ضمن میں سترہ انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر ہے: (۱)حضرت موسیٰ علیہ السلام ، (۲)حضرت ہارون علیہ السلام (۳)حضرت ابراہیم علیہ السلام ، (۴)حضرت لوط علیہ السلام، (۵)حضرت اسحاق علیہ السلام ، (۶)حضرت یعقوب علیہ السلام ، (۷)حضرت نوح علیہ السلام ، (۸)حضرت داؤد علیہ السلام ، (۹)حضرت سلیمان علیہ السلام ، (۱۰)حضرت ایوب علیہ السلام ، (۱۱)حضرت اسماعیل علیہ السلام ، (۱۲)حضرت ادریس علیہ السلام ، (۱۳)حضرت ذی الکفل علیہ السلام ، (۱۴) حضرت یونس علیہ السلام ، (۱۵)حضرت زکریا علیہ السلام ، (۱۶)حضرت یحیٰ علیہ السلام اور (۱۷)حضرت عیسیٰ علیہ السلام

ان سترہ میں سے کچھ انبیائے کرام علیہم السلام کے قصے قدرے تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں اور باقیوں کا اجمالی ذکر ہے۔

انبیائے سابقہ کے قصے بیان کرنے کے بعد بتایا گیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دین اور دنیا میں سارے جہانوں کے لیے رحمت ہیں، آپ نے اللہ کا پیغام انسانوں تک پہنچا دیا، مگر جب ہر قسم کے دلائل پیش کرنے کے بعد بھی لوگ نہ سمجھے تو آپ نے اللہ سے دعا کی ، اسی دعا پر یہ سورت ختم ہوتی ہے ، دعا یہ ہے:

”رَبِّ احْكُم بِالْحَقِّ ۗ وَرَبُّنَا الرَّحْمَ۔ٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ“

”اے میرے پروردگار! حق کا فیصلہ کردیجیے اور ہمارا پروردگار بڑی رحمت والا ہے ، اور جو باتیں تم بناتے ہو ان کے مقابلے میں اسی کی مدد درکار ہے۔“

۳۔ توحید:

توحید پر چھ دلائل ذکر کیے گئے ہیں:

آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے، ہم نے دونوں کو جدا جدا کردیا۔

ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے بنایا ہے۔

ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے، تاکہ لوگوں کے بوجھ سے زمین ہلنے نہ لگے۔

ہم نے زمین میں کشادہ راستے بنائے، تاکہ لوگ ان پر چلیں۔

ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا۔

رات دن ، سورج اور چاند کا نظام بنایا، ہر ایک اپنے اپنے مدار میں انتہائی تیز رفتاری سے گھوم رہا ہے، نہ ان میں ٹکراؤ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ خلط ملط ہوتے ہیں۔

(۲) سورۂ حج میں چھ باتیں یہ ہیں:​

۱۔ قیامت: 

(قیامت کی ہولناکیوں کے دل دہلانے والی منظر کشی کی گئی ہے۔)

۲۔ تخلیق انسان کے سات مراحل:

 (۱)مٹی (۲)منی (۳)خون کا لوتھڑا (۴)بوٹی (۵)بچہ (۶)جوان (۷)بوڑھا

۳۔ ملل اور مذاہب کے لحاظ سے چھ گروہ:

مسلمان ، یہودی ، صابی(ستارہ پرست) ، عیسائی ، مجوسی (سورج ، چاند اور آگ کا پجاری) ، مشرک(بت پرست)

۴۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اعلان حج:

(حضرت ابرہیم علیہ السلام نے جبل ابی قیس پر کھڑے ہوکر حج کا اعلان کیا تھا ، یہ اعلان اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے زمین و آسمان میں رہنے والوں تک پہنچادیا تھا۔)

۵۔ مؤمنوں کی چار علامات:

(۱)اللہ کا خوف ، 

(۲)مصائب پر صبر ، 

(۳)نماز کی پابندی ، 

(۴)نیک مصارف میں خرچ کرنا

۶۔ دیگر احکامات:

مثلا مناسک حج ، اقامتِ صلوۃ ، ادائیگیٔ زکوۃ ، جانوروں کی قربانی اور جہاد وغیرہ۔

Comments

Popular posts from this blog

قرآن مجید کے پندرھواں پارہ کے بارے میں ایک مختصر نوٹ

اس پارے میں دو حصے ہیں:​ ۱۔ سورۂ بنی اسرائیل مکمل​ ۲۔ سورۂ کہف کا زیادہ تر حصہ​ (۱) سورۂ بنی اسرائیل میں چار باتیں یہ ہیں: ۱۔ واقعہ معراج ۲۔ بنی اسرائیل کا فتنہ وفساد ۳۔ اسلامی آداب و اخلاق ۴۔ دیگر مضامین ۱۔ واقعہ معراج: معراج جسمانی ہوئی اور جاگنے کی حالت میں۔ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ اور پھر وہاں سے آسمانوں پر لے جایا گیا تھا۔ ۲۔ بنی اسرائیل کا فتنہ و فساد: بنی اسرائیل کو پہلے سے بتادیا گیا تھا کہ تم لوگ دو مرتبہ زمین میں فساد مچاؤ گے، چنانچہ ایک دفعہ حضرت شعیب علیہ السلام کو ایذا پہنچائی تو بخت نصر کو ان پر مسلط کردیا گیا، دوسری بار حضرت زکریا اور یحیٰ علیہما السلام کو شہید کردیا تو بابل کا بادشاہ ان پر مسلط ہوگیا۔ ۳۔ اسلامی آداب و اخلاق: (آیات: ۲۳ تا ۳۹) اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، والدین کے ساتھ بھلائی کرتے رہو، رشتہ داروں ، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دو، مال کو فضول خرچی میں نہ اڑاؤ، نہ بخل کرو، نہ ہاتھ اتنا کشادہ رکھو کہ کل کو پچھتانا پڑے، اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، کسی جاندار کو ناحق قتل نہ کرو، یتیم کے مال ...

چیونٹیوں کے بارے میں اہم معلومات

سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ چیونٹیاں اناج اور بیجوں کو جمع کرنے کے بعد! ان کو زمین میں لے جانے اور انہیں زمین کے اندر اپنے بِلوں میں رکھنے سے پہلے دو حصوں میں توڑ دیتی ہیں، کیونکہ اگر اناج و بیج دو حصوں میں تقسیم نہ کیا جائے تو وہ زمین کے اندر ہی پھوٹ جاتا ہے اور ہرا ہوجاتا  ہے.   انھوں نے حیرت سے کہا کہ چیونٹیاں دھنیا کے بیج کو چار حصوں میں تقسیم کرتی ہیں، کیونکہ ایک دھنیا کا بیج ہی ہے جو دو حصوں میں بٹنے کے بعد بھی پھوٹ سکتا ہے، اس لیے چیونٹیاں اس کو چار حصوں میں کاٹ کر تقسیم کرتی ہیں پھر اپنے بلوں کے اندر محفوظ کر کے رکھتی ہیں.... سوچنے کی بات..! ان سب کو یہ کس نے سکھلایا...؟ یقیناً میرے اور آپ کے بلکہ ساری کائنات کے وحدہ لاشریک رب نے تو اس کی پاکی بیان کیجیے.... سبحان الله وَ بِحَمدہ سبحان اللہ العظیم...

قرآن مجید کے پانچواں پارہ کے بارے میں ایک مختصر نوٹ

  :اس پارے میں آٹھ باتیں ہیں ١. خانہ داری کی تدابیر ٢. عدل اور احسان ٣. جہاد کی ترغیب ٤. منافقین کی مذمت ٥. قتل کی سزائیں ٦. ہجرت اور صلاۃ الخوف ٧. ایک قصہ ٨. سیدھے راستے پر چلنے کی ترغیب :١-  خانہ داری کی تدابیر پہلی ہدایت تو یہ دی گئی کہ مرد سربراہ ہے عورت کا پھر نافرمان بیوی سے متعلق مرد کو تین تدبیریں بتائی گئیں: ایک یہ کہ اس کو وعظ و نصیحت کرے، نہ مانے تو بستر الگ کردے، اگر پھر بھی نہ مانے تو انتہائی اقدام کے طور پر حد میں رہتے ہوئے اس کی پٹائی بھی کرسکتا ہے۔ :٢-  عدل واحسان عدل و احسان کا حکم دیا گیا تاکہ اجتماعی زندگی بھی درست ہوجائے۔ :٣-  جہاد کی ترغیب جہاد کی ترغیب دی کہ موت سے نہ ڈرو وہ تو گھر بیٹھے بھی آسکتی ہے، نہ جہاد میں نکلنا موت کو یقینی بناتا ہے، نہ گھر میں رہنا زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ :٤-  منافقین کی مذمت منافقین کی مذمت کرکے مسلمانوں کو ان سے چوکنا کیا ہے کہ خبردار! یہ لوگ تمھیں بھی اپنی طرح کافر بنانا چاہتے ہیں۔ :٥-  قتل کی سزائیں قتل کی سزائیں بیان کرتے ہوئے بڑا سخت لہجہ استعمال ہوا کہ مسلمان ک...