Skip to main content

قرآن مجید کے پندرھواں پارہ کے بارے میں ایک مختصر نوٹ

اس پارے میں دو حصے ہیں:​

۱۔ سورۂ بنی اسرائیل مکمل​

۲۔ سورۂ کہف کا زیادہ تر حصہ​


(۱) سورۂ بنی اسرائیل میں چار باتیں یہ ہیں:

۱۔ واقعہ معراج

۲۔ بنی اسرائیل کا فتنہ وفساد

۳۔ اسلامی آداب و اخلاق

۴۔ دیگر مضامین


۱۔ واقعہ معراج:

معراج جسمانی ہوئی اور جاگنے کی حالت میں۔ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ اور پھر وہاں سے آسمانوں پر لے جایا گیا تھا۔

۲۔ بنی اسرائیل کا فتنہ و فساد:

بنی اسرائیل کو پہلے سے بتادیا گیا تھا کہ تم لوگ دو مرتبہ زمین میں فساد مچاؤ گے، چنانچہ ایک دفعہ حضرت شعیب علیہ السلام کو ایذا پہنچائی تو بخت نصر کو ان پر مسلط کردیا گیا، دوسری بار حضرت زکریا اور یحیٰ علیہما السلام کو شہید کردیا تو بابل کا بادشاہ ان پر مسلط ہوگیا۔

۳۔ اسلامی آداب و اخلاق: (آیات: ۲۳ تا ۳۹)

اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، والدین کے ساتھ بھلائی کرتے رہو، رشتہ داروں ، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دو، مال کو فضول خرچی میں نہ اڑاؤ، نہ بخل کرو، نہ ہاتھ اتنا کشادہ رکھو کہ کل کو پچھتانا پڑے، اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، کسی جاندار کو ناحق قتل نہ کرو، یتیم کے مال میں ناجائز تصرف نہ کرو، وعدہ کرو تو اسے پورا کرو، ناپ تول پورا پورا کیا کرو، جس چیز کے بارے میں تحقیق نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو، زمین پر اکڑ کر نہ چلو، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔

۴۔ دیگر مضامین:

قرآن کریم کی عظمت ، اس کے نزول کے مقاصد، اس کا معجزہ ہونا، اللہ کی طرف سے انسان کو تکریم دیا جانا ، اسے روح اور زندگی جیسی نعمت کا عطا ہونا، نبی علیہ السلام کو نمازِ تہجد کا حکم، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا قصہ ، قرآن کریم کے تھوڑا تھوڑا نازل ہونے کی حکمت، اللہ تعالیٰ کا شریک اور اولاد سے پاک ہونا اور اسمائے حسنی کے ساتھ متصف ہونا۔


(۲) سورۂ کہف کے ابتدائی حصے میں دو باتیں یہ ہیں:

۱۔ دو قصے

۲۔ دو مثالیں


۱۔ دو قصے:

پہلا قصہ اصحاب کہف کا:

یہ وہ چند صاحب ایمان نوجوان تھے جنھیں دقیانوس نامی بادشاہ بت پرستی پر مجبور کرتا تھا، وہ ہر ایسے شخص کو قتل کردیتا تھا جو اس کی شرکیہ دعوت کو قبول نہیں کرتا تھا، ان نوجوانوں کو ایک طرف مال و دولت کے انبار ، اونچے عہدوں پر تقرر اور معیارِ زندگی کی بلندی جیسی ترغیبات دی گئیں اور دوسری طرف ڈرایا دھمکایا گیا اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی گئیں، ان نوجوانوں نے ایمان کی حفاظت کو ہر چیز پر مقدم جانا اور اسے بچانے کی خاطر نکل کھڑے ہوئے، چلتے چلتے شہر سے بہت دور ایک پہاڑ کے غار تک پہنچ گئے، راستے میں ایک کتا بھی ان کے ساتھ شامل ہوگیا، انھوں نے اس غار میں پناہ لینے کا ارادہ کیا، وہ جب غار میں داخل ہوگئے تو اللہ نے انھیں گہری نیند سلادیا، یہاں وہ تین سو نو سال تک سوتے ہرے، جب نیند سے بیدار ہوئے تو کھانے کی فکر ہوئی، انمیں سے ایک کھانا خریدنے کے لیے شہر آیا، وہاں اسے پہچان لیا گیا، تین صدیوں میں حالات بدل چکے تھے، اہلِ شرک کی حکومت کب کی ختم ہوچکی تھی اور اب موحد برسر اقتدار تھے، ایمان کی خاطر گھربار چھوڑنے والے یہ نوجوان ان کی نظر میں قومی ہیروز کی حیثیت اختیار کرگئے۔

دوسرا قصہ حضرت موسٰی اور خضر علیہما السلام کا:

 اس کا ذکر اگلے پارے کے شروع میں ہوگا۔


۲۔ دو مثالیں:

پہلی مثال:

دو شخص تھے، ایک کے باغات تھے اور دوسرا غریب تھا، باغات والا اکڑتا تھا، غریب نے کہا اکڑ نہیں ماشاء اللہ کہا کر، وہ نہ مانا اللہ کا عذاب آیا اور اس کے باغات جل گئے وہ شرمندہ ہوگیا۔

دوسری مثال:

دنیاوی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے پانی برسا، زمین سرسبز ہوگئی، کچھ عرصے بعد سب کچھ سوکھ کر چورا چورا ہوگیا۔ 

Comments

Popular posts from this blog

چیونٹیوں کے بارے میں اہم معلومات

سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ چیونٹیاں اناج اور بیجوں کو جمع کرنے کے بعد! ان کو زمین میں لے جانے اور انہیں زمین کے اندر اپنے بِلوں میں رکھنے سے پہلے دو حصوں میں توڑ دیتی ہیں، کیونکہ اگر اناج و بیج دو حصوں میں تقسیم نہ کیا جائے تو وہ زمین کے اندر ہی پھوٹ جاتا ہے اور ہرا ہوجاتا  ہے.   انھوں نے حیرت سے کہا کہ چیونٹیاں دھنیا کے بیج کو چار حصوں میں تقسیم کرتی ہیں، کیونکہ ایک دھنیا کا بیج ہی ہے جو دو حصوں میں بٹنے کے بعد بھی پھوٹ سکتا ہے، اس لیے چیونٹیاں اس کو چار حصوں میں کاٹ کر تقسیم کرتی ہیں پھر اپنے بلوں کے اندر محفوظ کر کے رکھتی ہیں.... سوچنے کی بات..! ان سب کو یہ کس نے سکھلایا...؟ یقیناً میرے اور آپ کے بلکہ ساری کائنات کے وحدہ لاشریک رب نے تو اس کی پاکی بیان کیجیے.... سبحان الله وَ بِحَمدہ سبحان اللہ العظیم...

قرآن مجید کے بارھواں پارہ کے بارے میں ایک مختصر نوٹ

اس پارے میں دو حصے ہیں: ۱۔ سورۂ ہود مکمل (اس کی ابتدائی پانچ آیات گیارھویں پارے میں ہیں) ۲۔ سورۂ یوسف کا بقیہ حصہ (۱) سورۂ ہود میں چار باتیں یہ ہیں: ۱۔ قرآنِ کریم کی عظمت ۲۔ توحید اور دلائل توحید ۳۔ رسالت اور اس کے اثبات کے لیے سات انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات ۴۔ قیامت کا تذکرہ ۱۔ قرآن کی عظمت: (۱) قرآن اپنی آیات، معانی اور مضامین کے اعتبار سے محکم کتاب ہے اور اس میں کسی بھی اعتبار سے فساد اور خلل نہیں آسکتا اور نہ اس میں کوئی تعارض یا تناقض پایا جاتا ہے، اس کے محکم ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ اس کی تفصیل اور تشریح اس ذات نے کی ہے جو حکیم بھی ہے اور خبیر بھی ہے، اس کا ہر حکم کسی نہ کسی حکمت پر مبنی ہے اور اسے انسان کے ماضی ، حال ، مستقبل ، اس کی نفسیات ، کمزوریوں اور ضروریات کا بخوبی علم ہے۔ (۲)منکرین قرآن کو چیلنج دیا گیا ہے کہ اگر واقعی قرآن انسانی کاوش ہے تو تم بھی اس جیسی دس سورتیں بناکر لے آؤ۔ ۲۔ توحید اور دلائل توحید: ساری مخلوق کو رزق دینے والا اللہ ہی ہے، خواہ وہ مخلوق انسان ہو یا جنات ، چوپائے ہوں یا پرندے، پانی میں رہنے والی مچھلیاں ہوں یا کہ زمین پر رینگنے والے کیڑے...

قرآن مجید کے اٹھارھواں پارہ کے بارے میں ایک مختصر نوٹ

 اس پارے میں تین حصے ہیں: ۱۔ سورۂ مؤمنون (مکمل) ۲۔ سورۂ نور (مکمل) ۳۔ سورۂ فرقان (ابتدائی حصہ) (۱) سورۂ مؤمنون میں سات باتیں یہ ہیں: ۱۔ استحقاقِ جنت کی سات صفات ۲۔ تخلیقِ انسان کے نو مراحل ۳۔ توحید ۴۔ انبیاء کے قصے ۵۔ نیک لوگوں کی چار صفات ۶۔ نہ ماننے والوں کے انکار کی اصل وجہ ۷۔ قیامت ۱۔ استحقاقِ جنت کی سات صفات: (۱)ایمان ، (۲)نماز میں خشوع ، (۳)اعراض عن اللغو ، (۴)زکوۃ ، (۵)پاکدامنی ، (۶)امانت داری ، (۷)نمازوں کی حفاظت۔ ۲۔ تخلیقِ انسان کے نو مراحل: (۱)مٹی (۲)منی (۳)جما ہوا خون (۴)لوتھڑا (۵)ہڈی (۶)گوشت کا لباس (۷)انسان (۸)موت (۹)دوبارہ زندگی ۳۔ توحید: آغازِ سورت میں توحید کے تین دلائل ہیں: (۱)آسمانوں کی تخلیق ، (۲)بارش اور غلہ جات ، (۳)چوپائے اور ان کے منافع۔ ۴۔ انبیائے کرام کے قصے: (۱) حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی کشتی کا ذکر۔ (۲) حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کا ذکر۔ (۳) حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم کا تذکرہ۔ ۵۔ نیک لوگوں کی چار صفات: (۱) اللہ سے ڈرتے ہیں ، (۲)اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ، (۳)شرک اور ریا نہیں کرتے ، (۴)نیکیوں کے باوصف دل ہی دل میں ڈرتے...