Skip to main content

قرآن مجید کے نواں پارہ کے بارے میں ایک مختصر نوٹ

 :اس پارے میں دو حصے ہیں

١- سورۂ اعراف کا بقیہ حصہ
٢- سورۂ انفال کا ابتدائی حصہ

(١) سورۂ اعراف کے بقیہ حصے میں چھ باتیں یہ ہیں: 
۱۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تفصیلی قصہ
۲۔ عہد الست کا ذکر
۳۔ بلعم بن باعوراء کا قصہ
۴۔ تمام کفار چوپائے کی طرح ہیں
۵۔ قیامت کا علم کسی کو نہیں
۶۔ قرآن کی عظمت

بلعم بن باعوراء کا قصہ:
فتح مصر کے بعد جب بنی اسرئیل کو قوم جبارین سے جہاد کرنے کا حکم ملا تو جبارین ڈرگئے اور بلعم بن باعوراء کے پاس آئے کہ کچھ کرو، بلعم کے پاس اسم اعظم تھا، اس نے پہلے تو اس کی مدد سے منع کیا، مگر جب انھوں نے رشوت دی تو یہ بہک گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرئیل کے خلاف بد دعائیہ کلمات کہنے شروع کیے، مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ وہ کلمات خود اس کے اور قوم جبارین کے خلاف نکلے، اللہ تعالیٰ نے اس کی زبان نکال کر اس کو کتے کی طرح کردیا۔ فمثله كمثل الكلب

(۲) سورۂ انفال کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں تین باتیں یہ ہیں:​
۱۔ غزوہ بدر اور مال غنیمت کا حکم
۲۔ مومنین کی پانچ صفات
۳۔ چھ بار مومنین سے خطاب

مومنین کی پانچ صفات یہ ہیں:
(۱)خشیت (۲)تلاوت (۳)توکل (۴)نماز (۵)سخاوت (آیت:۲و۳)

چھ بار مومنین سے خطاب:
(۱) آیت: ۱۴ (اے ایمان والو! میدان جنگ میں کفار کے مقابلے سے پیٹھ نہ پھیرنا)
(۲) آیت: ۲۰ (اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو)
(۳) آیت: ۲۴ (اے ایمان والو! اللہ اور رسول جب کسی کام کے لیے بلائیں تو ان کا حکم قبول کرو)
(۴) آیت: ۲۷ (اے ایمان والو! نہ اللہ اور رسول سے خیانت کرو نہ اپنی امانتوں میں)
(۵) آیت: ۲۹ (اے ایمان والو! تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمھیں ممتاز کردے گا اور تمھارے گناہ معاف کردے گا)
(۶) آیت: ۴۵ (اے ایمان والو! دشمن سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو یاد کرو)

Comments

Popular posts from this blog

قرآن مجید کے پندرھواں پارہ کے بارے میں ایک مختصر نوٹ

اس پارے میں دو حصے ہیں:​ ۱۔ سورۂ بنی اسرائیل مکمل​ ۲۔ سورۂ کہف کا زیادہ تر حصہ​ (۱) سورۂ بنی اسرائیل میں چار باتیں یہ ہیں: ۱۔ واقعہ معراج ۲۔ بنی اسرائیل کا فتنہ وفساد ۳۔ اسلامی آداب و اخلاق ۴۔ دیگر مضامین ۱۔ واقعہ معراج: معراج جسمانی ہوئی اور جاگنے کی حالت میں۔ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے وقت مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ اور پھر وہاں سے آسمانوں پر لے جایا گیا تھا۔ ۲۔ بنی اسرائیل کا فتنہ و فساد: بنی اسرائیل کو پہلے سے بتادیا گیا تھا کہ تم لوگ دو مرتبہ زمین میں فساد مچاؤ گے، چنانچہ ایک دفعہ حضرت شعیب علیہ السلام کو ایذا پہنچائی تو بخت نصر کو ان پر مسلط کردیا گیا، دوسری بار حضرت زکریا اور یحیٰ علیہما السلام کو شہید کردیا تو بابل کا بادشاہ ان پر مسلط ہوگیا۔ ۳۔ اسلامی آداب و اخلاق: (آیات: ۲۳ تا ۳۹) اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، والدین کے ساتھ بھلائی کرتے رہو، رشتہ داروں ، مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دو، مال کو فضول خرچی میں نہ اڑاؤ، نہ بخل کرو، نہ ہاتھ اتنا کشادہ رکھو کہ کل کو پچھتانا پڑے، اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، کسی جاندار کو ناحق قتل نہ کرو، یتیم کے مال ...

چیونٹیوں کے بارے میں اہم معلومات

سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ چیونٹیاں اناج اور بیجوں کو جمع کرنے کے بعد! ان کو زمین میں لے جانے اور انہیں زمین کے اندر اپنے بِلوں میں رکھنے سے پہلے دو حصوں میں توڑ دیتی ہیں، کیونکہ اگر اناج و بیج دو حصوں میں تقسیم نہ کیا جائے تو وہ زمین کے اندر ہی پھوٹ جاتا ہے اور ہرا ہوجاتا  ہے.   انھوں نے حیرت سے کہا کہ چیونٹیاں دھنیا کے بیج کو چار حصوں میں تقسیم کرتی ہیں، کیونکہ ایک دھنیا کا بیج ہی ہے جو دو حصوں میں بٹنے کے بعد بھی پھوٹ سکتا ہے، اس لیے چیونٹیاں اس کو چار حصوں میں کاٹ کر تقسیم کرتی ہیں پھر اپنے بلوں کے اندر محفوظ کر کے رکھتی ہیں.... سوچنے کی بات..! ان سب کو یہ کس نے سکھلایا...؟ یقیناً میرے اور آپ کے بلکہ ساری کائنات کے وحدہ لاشریک رب نے تو اس کی پاکی بیان کیجیے.... سبحان الله وَ بِحَمدہ سبحان اللہ العظیم...

قرآن مجید کے پانچواں پارہ کے بارے میں ایک مختصر نوٹ

  :اس پارے میں آٹھ باتیں ہیں ١. خانہ داری کی تدابیر ٢. عدل اور احسان ٣. جہاد کی ترغیب ٤. منافقین کی مذمت ٥. قتل کی سزائیں ٦. ہجرت اور صلاۃ الخوف ٧. ایک قصہ ٨. سیدھے راستے پر چلنے کی ترغیب :١-  خانہ داری کی تدابیر پہلی ہدایت تو یہ دی گئی کہ مرد سربراہ ہے عورت کا پھر نافرمان بیوی سے متعلق مرد کو تین تدبیریں بتائی گئیں: ایک یہ کہ اس کو وعظ و نصیحت کرے، نہ مانے تو بستر الگ کردے، اگر پھر بھی نہ مانے تو انتہائی اقدام کے طور پر حد میں رہتے ہوئے اس کی پٹائی بھی کرسکتا ہے۔ :٢-  عدل واحسان عدل و احسان کا حکم دیا گیا تاکہ اجتماعی زندگی بھی درست ہوجائے۔ :٣-  جہاد کی ترغیب جہاد کی ترغیب دی کہ موت سے نہ ڈرو وہ تو گھر بیٹھے بھی آسکتی ہے، نہ جہاد میں نکلنا موت کو یقینی بناتا ہے، نہ گھر میں رہنا زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ :٤-  منافقین کی مذمت منافقین کی مذمت کرکے مسلمانوں کو ان سے چوکنا کیا ہے کہ خبردار! یہ لوگ تمھیں بھی اپنی طرح کافر بنانا چاہتے ہیں۔ :٥-  قتل کی سزائیں قتل کی سزائیں بیان کرتے ہوئے بڑا سخت لہجہ استعمال ہوا کہ مسلمان ک...