Skip to main content

قرآن مجید کے پانچواں پارہ کے بارے میں ایک مختصر نوٹ

 :اس پارے میں آٹھ باتیں ہیں

١. خانہ داری کی تدابیر

٢. عدل اور احسان

٣. جہاد کی ترغیب

٤. منافقین کی مذمت

٥. قتل کی سزائیں

٦. ہجرت اور صلاۃ الخوف

٧. ایک قصہ

٨. سیدھے راستے پر چلنے کی ترغیب


:١- خانہ داری کی تدابیر

پہلی ہدایت تو یہ دی گئی کہ مرد سربراہ ہے عورت کا پھر نافرمان بیوی سے متعلق مرد کو تین تدبیریں بتائی گئیں: ایک یہ کہ اس کو وعظ و نصیحت کرے، نہ مانے تو بستر الگ کردے، اگر پھر بھی نہ مانے تو انتہائی اقدام کے طور پر حد میں رہتے ہوئے اس کی پٹائی بھی کرسکتا ہے۔


:٢- عدل واحسان

عدل و احسان کا حکم دیا گیا تاکہ اجتماعی زندگی بھی درست ہوجائے۔


:٣- جہاد کی ترغیب

جہاد کی ترغیب دی کہ موت سے نہ ڈرو وہ تو گھر بیٹھے بھی آسکتی ہے، نہ جہاد میں نکلنا موت کو یقینی بناتا ہے، نہ گھر میں رہنا زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے۔


:٤- منافقین کی مذمت

منافقین کی مذمت کرکے مسلمانوں کو ان سے چوکنا کیا ہے کہ خبردار! یہ لوگ تمھیں بھی اپنی طرح کافر بنانا چاہتے ہیں۔


:٥- قتل کی سزائیں

قتل کی سزائیں بیان کرتے ہوئے بڑا سخت لہجہ استعمال ہوا کہ مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے والا ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں جلے گا، مراد اس سے جائز سمجھ کر قتل کرنے والا ہے۔


:٦- ہجرت اور صلاۃ الخوف

جہاد کی ترغیب دی تھی، اس میں ہجرت بھی کرنی پرتی ہے اور جہاد ار ہجرت میں نماز پڑھتے وقت دشمن کا خوف ہوتا ہے، اس لیے صلاۃ الخوف بیان ہوئی۔


:٧-  ایک قصہ
ایک شخص جو بظاہر مسلمان مگر در حقیقت منافق تھا اس نے چوری کی اور الزام ایک یہودی پر لگادیا، نبی علیہ السلام تک یہ واقعہ پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہودی کے خلاف فیصلہ دینے ہی والے تھے کہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ چور وہ مسلمان نما منافق ہے، چنانچہ وہ چور مکہ بھاگا اور کھلا کافر بن گیا۔

:٨- سیدھے راستے پر چلنے کی ترغیب
شیطان کی اطاعت سے بچو، وہ گمراہ کن ہے، ابوالانبیاء ابرہیم علیہ السلام کی اتباع کرو، عورتوں کے حقوق ادا کرو، منافقین کے لیے سخت عذاب ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

چیونٹیوں کے بارے میں اہم معلومات

سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ چیونٹیاں اناج اور بیجوں کو جمع کرنے کے بعد! ان کو زمین میں لے جانے اور انہیں زمین کے اندر اپنے بِلوں میں رکھنے سے پہلے دو حصوں میں توڑ دیتی ہیں، کیونکہ اگر اناج و بیج دو حصوں میں تقسیم نہ کیا جائے تو وہ زمین کے اندر ہی پھوٹ جاتا ہے اور ہرا ہوجاتا  ہے.   انھوں نے حیرت سے کہا کہ چیونٹیاں دھنیا کے بیج کو چار حصوں میں تقسیم کرتی ہیں، کیونکہ ایک دھنیا کا بیج ہی ہے جو دو حصوں میں بٹنے کے بعد بھی پھوٹ سکتا ہے، اس لیے چیونٹیاں اس کو چار حصوں میں کاٹ کر تقسیم کرتی ہیں پھر اپنے بلوں کے اندر محفوظ کر کے رکھتی ہیں.... سوچنے کی بات..! ان سب کو یہ کس نے سکھلایا...؟ یقیناً میرے اور آپ کے بلکہ ساری کائنات کے وحدہ لاشریک رب نے تو اس کی پاکی بیان کیجیے.... سبحان الله وَ بِحَمدہ سبحان اللہ العظیم...

قرآن مجید کے بارھواں پارہ کے بارے میں ایک مختصر نوٹ

اس پارے میں دو حصے ہیں: ۱۔ سورۂ ہود مکمل (اس کی ابتدائی پانچ آیات گیارھویں پارے میں ہیں) ۲۔ سورۂ یوسف کا بقیہ حصہ (۱) سورۂ ہود میں چار باتیں یہ ہیں: ۱۔ قرآنِ کریم کی عظمت ۲۔ توحید اور دلائل توحید ۳۔ رسالت اور اس کے اثبات کے لیے سات انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات ۴۔ قیامت کا تذکرہ ۱۔ قرآن کی عظمت: (۱) قرآن اپنی آیات، معانی اور مضامین کے اعتبار سے محکم کتاب ہے اور اس میں کسی بھی اعتبار سے فساد اور خلل نہیں آسکتا اور نہ اس میں کوئی تعارض یا تناقض پایا جاتا ہے، اس کے محکم ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ اس کی تفصیل اور تشریح اس ذات نے کی ہے جو حکیم بھی ہے اور خبیر بھی ہے، اس کا ہر حکم کسی نہ کسی حکمت پر مبنی ہے اور اسے انسان کے ماضی ، حال ، مستقبل ، اس کی نفسیات ، کمزوریوں اور ضروریات کا بخوبی علم ہے۔ (۲)منکرین قرآن کو چیلنج دیا گیا ہے کہ اگر واقعی قرآن انسانی کاوش ہے تو تم بھی اس جیسی دس سورتیں بناکر لے آؤ۔ ۲۔ توحید اور دلائل توحید: ساری مخلوق کو رزق دینے والا اللہ ہی ہے، خواہ وہ مخلوق انسان ہو یا جنات ، چوپائے ہوں یا پرندے، پانی میں رہنے والی مچھلیاں ہوں یا کہ زمین پر رینگنے والے کیڑے...

قرآن مجید کے چھٹے پارہ کے بارے میں ایک مختصر نوٹ

:اس پارے میں دو حصے ہیں ١- سورۂ نساء کا بقیہ حصہ ٢- سورۂ مائدہ کا ابتدائی حصہ :پہلا حصہ)  سورۂ نساء کے بقیہ حصے میں تین باتیں ہیں ) ١. یہود کی مذمت ٢. نصاری کی مذمت ٣. میراث :١-  یہود کی مذمت انھوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی، مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حفاظت فرمائی۔ :٢- نصاری کی مذمت یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں غلو کا شکار کر عقیدۂ تثلیث کے حامل ہوگئے۔ :٣- میراث عینی اور علاتی بہنوں کے حصے مذکور ہوئے کہ ایک بیٹی کو نصف ، ایک سے زیادہ کو دو ثلث اور اگر بھائی بھی ہوں تو لڑکے کو لڑکی سے دوگنا ملے گا۔ :دوسرا حصہ) سورۂ مائدہ کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں پانچ باتیں ہیں) ١. اوفوا بالعقود (ہر جائز عہد اور عقد جو تمھارے اور رب کے درمیان ہو یا تمھارے اور انسانوں کے درمیان ہو اسے پورا کرو) ٢. حرام چیزیں (بہنے والا خون، خنزیر کا گوشت اور جسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو) ٣. طہارت (وضو ، تیمم اور غسل کے مسائل) ٤.  ہابیل اور قابیل کا قصہ (قابیل...