Skip to main content

قرآن مجید کے چوتھے پارہ کے بارے میں ایک مختصر نوٹ

:اس پارے میں دو حصے ہیں

١- بقیہ سورۂ آل عمران

٢- ابتدائے سورۂ نساء

:پہلا حصہ) سورۂ آل عمران کے بقیہ حصے میں پانچ باتیں ہیں)

١- خانہ کعبہ کے فضائل

٢- باہمی جوڑ

٣- امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

٤- تین غزوے

٥- کامیابی کے چار اصول


:١- خانہ کعبہ کے فضائل
یہ سب سے پہلی عبادت گاہ ہے اور اس میں واضح نشانیاں ہیں جیسے: مقام ابراہیم۔ جو حرم میں داخل ہوجائے اسے امن حاصل ہوجاتا ہے۔

:٢- باہمی جوڑ
اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو۔

٣- امر بالمعروف اور نہی عن النکر 
یہ بہترین امت ہے کہ لوگوں کی نفع رسانی کے لیے نکالی گئی ہے، بھلائی کا حکم کرتی ہے، برائی سے روکتی ہے اور اللہ پر ایمان رکھتی ہے۔

:٤- تین غزوے
١.غزوۂ بدر ۲۔غزوۂ حد ۳۔غزوۂ حمراء الاسد

:٥- کامیابی کے چار اصول
١. صبر ۲۔مصابرہ ۳۔مرابطہ ۴۔تقوی

:دوسرا حصہ) سورۂ نساء کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں چار باتیں ہیں)

١. یتیموں کا حق: (ان کو ان کا مال حوالے کردیا جائے۔)
٢. تعدد ازواج: (ایک مرد بیک وقت چار نکاح کرسکتے ہیں بشرط ادائیگیٔ حقوق۔)
٣. میراث: (اولاد ، ماں باپ ، بیوی ، کلالہ کے حصے بیان ہوئے اس قید کے ساتھ کہ پہلی وصیت ادا کردی جائے۔)
٤. محرم عورتیں: (مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، رضاعی مائیں، رضاعی بہنیں، ساس، سوتیلی بیٹیاں، بہویں۔)

Comments

Popular posts from this blog

چیونٹیوں کے بارے میں اہم معلومات

سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ چیونٹیاں اناج اور بیجوں کو جمع کرنے کے بعد! ان کو زمین میں لے جانے اور انہیں زمین کے اندر اپنے بِلوں میں رکھنے سے پہلے دو حصوں میں توڑ دیتی ہیں، کیونکہ اگر اناج و بیج دو حصوں میں تقسیم نہ کیا جائے تو وہ زمین کے اندر ہی پھوٹ جاتا ہے اور ہرا ہوجاتا  ہے.   انھوں نے حیرت سے کہا کہ چیونٹیاں دھنیا کے بیج کو چار حصوں میں تقسیم کرتی ہیں، کیونکہ ایک دھنیا کا بیج ہی ہے جو دو حصوں میں بٹنے کے بعد بھی پھوٹ سکتا ہے، اس لیے چیونٹیاں اس کو چار حصوں میں کاٹ کر تقسیم کرتی ہیں پھر اپنے بلوں کے اندر محفوظ کر کے رکھتی ہیں.... سوچنے کی بات..! ان سب کو یہ کس نے سکھلایا...؟ یقیناً میرے اور آپ کے بلکہ ساری کائنات کے وحدہ لاشریک رب نے تو اس کی پاکی بیان کیجیے.... سبحان الله وَ بِحَمدہ سبحان اللہ العظیم...

قرآن مجید کے بارھواں پارہ کے بارے میں ایک مختصر نوٹ

اس پارے میں دو حصے ہیں: ۱۔ سورۂ ہود مکمل (اس کی ابتدائی پانچ آیات گیارھویں پارے میں ہیں) ۲۔ سورۂ یوسف کا بقیہ حصہ (۱) سورۂ ہود میں چار باتیں یہ ہیں: ۱۔ قرآنِ کریم کی عظمت ۲۔ توحید اور دلائل توحید ۳۔ رسالت اور اس کے اثبات کے لیے سات انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات ۴۔ قیامت کا تذکرہ ۱۔ قرآن کی عظمت: (۱) قرآن اپنی آیات، معانی اور مضامین کے اعتبار سے محکم کتاب ہے اور اس میں کسی بھی اعتبار سے فساد اور خلل نہیں آسکتا اور نہ اس میں کوئی تعارض یا تناقض پایا جاتا ہے، اس کے محکم ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ اس کی تفصیل اور تشریح اس ذات نے کی ہے جو حکیم بھی ہے اور خبیر بھی ہے، اس کا ہر حکم کسی نہ کسی حکمت پر مبنی ہے اور اسے انسان کے ماضی ، حال ، مستقبل ، اس کی نفسیات ، کمزوریوں اور ضروریات کا بخوبی علم ہے۔ (۲)منکرین قرآن کو چیلنج دیا گیا ہے کہ اگر واقعی قرآن انسانی کاوش ہے تو تم بھی اس جیسی دس سورتیں بناکر لے آؤ۔ ۲۔ توحید اور دلائل توحید: ساری مخلوق کو رزق دینے والا اللہ ہی ہے، خواہ وہ مخلوق انسان ہو یا جنات ، چوپائے ہوں یا پرندے، پانی میں رہنے والی مچھلیاں ہوں یا کہ زمین پر رینگنے والے کیڑے...

قرآن مجید کے اٹھارھواں پارہ کے بارے میں ایک مختصر نوٹ

 اس پارے میں تین حصے ہیں: ۱۔ سورۂ مؤمنون (مکمل) ۲۔ سورۂ نور (مکمل) ۳۔ سورۂ فرقان (ابتدائی حصہ) (۱) سورۂ مؤمنون میں سات باتیں یہ ہیں: ۱۔ استحقاقِ جنت کی سات صفات ۲۔ تخلیقِ انسان کے نو مراحل ۳۔ توحید ۴۔ انبیاء کے قصے ۵۔ نیک لوگوں کی چار صفات ۶۔ نہ ماننے والوں کے انکار کی اصل وجہ ۷۔ قیامت ۱۔ استحقاقِ جنت کی سات صفات: (۱)ایمان ، (۲)نماز میں خشوع ، (۳)اعراض عن اللغو ، (۴)زکوۃ ، (۵)پاکدامنی ، (۶)امانت داری ، (۷)نمازوں کی حفاظت۔ ۲۔ تخلیقِ انسان کے نو مراحل: (۱)مٹی (۲)منی (۳)جما ہوا خون (۴)لوتھڑا (۵)ہڈی (۶)گوشت کا لباس (۷)انسان (۸)موت (۹)دوبارہ زندگی ۳۔ توحید: آغازِ سورت میں توحید کے تین دلائل ہیں: (۱)آسمانوں کی تخلیق ، (۲)بارش اور غلہ جات ، (۳)چوپائے اور ان کے منافع۔ ۴۔ انبیائے کرام کے قصے: (۱) حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی کشتی کا ذکر۔ (۲) حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام کا ذکر۔ (۳) حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم کا تذکرہ۔ ۵۔ نیک لوگوں کی چار صفات: (۱) اللہ سے ڈرتے ہیں ، (۲)اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ، (۳)شرک اور ریا نہیں کرتے ، (۴)نیکیوں کے باوصف دل ہی دل میں ڈرتے...