Skip to main content

قرآن مجید کے دوسرے پارہ کے بارے میں ایک مختصر نوٹ

:اس پارے میں چار باتیں ہیں

١- تحویل قبلہ

٢- آیت بر اور ابوابِ بر

٣- قصۂ طاعون

٤- قصۂ طالوت


تحویل قبلہ

ہجرت مدینہ کے بعد سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس قبلہ رہا ، آپ ﷺ کی چاہت تھی کہ خانہ کعبہ قبلہ ہو، اللہ تعالیٰ نے آرزو پوری کی اور قبلہ تبدیل ہوگیا۔

- آیتِ بر اور ابوابِ بر

لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ ۔۔۔۔ (البقرۃ:۱۷۷) یہ آیتِ بر کہلاتی ہے، اس میں تمام احکامات عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق اجمالی طور پر مذکور ہیں، آگے ابواب البر میں تفصیلی طور پر ہیں:۱۔صفا مروہ کی سعی ۲۔مردار، خون، خنزیرکا گوشت اور جو غیر اللہ تعالیٰ کے نامزد ہو ان کی حرمت ۳۔قصاص ۴۔وصیت ۵۔روزے ۶۔اعتکاف ۷۔حرام کمائی ۸۔قمری تاریخ ۹۔جہاد ۱۰۔حج ۱۱۔انفاق فی سبیل اللہ تعالیٰ ۱۲۔ہجرت ۱۳۔شراب اور جوا ۱۴۔مشرکین سے نکاح ۱۵۔حیض میں جماع ۱۶۔ایلاء ۱۷۔طلاق ۱۸۔عدت ۱۹۔رضاعت ۲۰۔مہر ۲۱۔حلالہ ۲۲۔معتدہ سے پیغامِ نکاح۔

قصۂ طاعون

کچھ لوگوں پر طاعون کی بیماری آئی، وہ موت کے خوف سے دوسرے شہر چلے گئے، اللہ تعالیٰ نے (دو فرشتوں کو بھیج کر) انھیں موت دی (تاکہ انسانوں کو پتا چل جائے کہ کوئی موت سے بھاگ نہیں سکتا) کچھ عرصے بعد اللہ نے (ایک نبی کے دعا مانگنے پر) انھیں دوبارہ زندگی دے دی۔

:٤- قصۂ طالوت

طالوت کے لشکر نے جالوت کے لشکر کو باوجود کم ہونے کے اللہ تعالیٰ کے حکم سے شکست دے دی۔

Comments

Popular posts from this blog

چیونٹیوں کے بارے میں اہم معلومات

سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ چیونٹیاں اناج اور بیجوں کو جمع کرنے کے بعد! ان کو زمین میں لے جانے اور انہیں زمین کے اندر اپنے بِلوں میں رکھنے سے پہلے دو حصوں میں توڑ دیتی ہیں، کیونکہ اگر اناج و بیج دو حصوں میں تقسیم نہ کیا جائے تو وہ زمین کے اندر ہی پھوٹ جاتا ہے اور ہرا ہوجاتا  ہے.   انھوں نے حیرت سے کہا کہ چیونٹیاں دھنیا کے بیج کو چار حصوں میں تقسیم کرتی ہیں، کیونکہ ایک دھنیا کا بیج ہی ہے جو دو حصوں میں بٹنے کے بعد بھی پھوٹ سکتا ہے، اس لیے چیونٹیاں اس کو چار حصوں میں کاٹ کر تقسیم کرتی ہیں پھر اپنے بلوں کے اندر محفوظ کر کے رکھتی ہیں.... سوچنے کی بات..! ان سب کو یہ کس نے سکھلایا...؟ یقیناً میرے اور آپ کے بلکہ ساری کائنات کے وحدہ لاشریک رب نے تو اس کی پاکی بیان کیجیے.... سبحان الله وَ بِحَمدہ سبحان اللہ العظیم...

قرآن مجید کے دسواں پارہ کے بارے میں ایک مختصر نوٹ

 اس پارے میں دو حصے ہیں: ۱۔ سورۂ انفال کا بقیہ حصہ ۲۔ سورۂ توبہ کا ابتدائی حصہ (۱) سورۂ انفال کے بقیہ حصے میں پانچ باتیں یہ ہیں: ۱۔ مال غنیمت کا حکم ۲۔ غزوۂ بدر کے حالات ۳۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت کے چار اسباب ۴۔ جنگ سے متعلق ہدایات ۵۔ ہجرت اور نصرے کے فضائل ۱۔ مال غنیمت کا حکم: مال غنیمت کا حکم یہ بیان ہوا کہ خمس نبی علیہ السلام آپ کے اقرباء یتیموں مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اور باقی چار حصے مجاہدین کے لیے ہیں۔ ۲۔ غزوۂ بدر کے حالات: (۱) کفار مسلمانوں کو اور مسلمان کفار کو تعداد میں کم سمجھے اور ایسا اس لیے ہوا کہ اس جنگ کا ہونا اللہ کے ہاں طے ہوچکا تھا۔ (۲) شیطان مشرکین کے سامنے ان کے اعمال کو مزین کرکے پیش کرتا رہا دوسری طرف مسلمانوں کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے نازل ہوئے۔ (۳) قریش غزوۂ بدر میں ذلیل و خوار ہوئے۔ ۳۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت کے چار اسباب: (۱) میدان جنگ میں ثابت قدمی۔ (۲) اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے۔ (۳) اختلاف اور لڑائی سے بچ کر رہنا۔ (۴) مقابلے میں نا موافق امور پر صبر۔ ۴۔ جنگ سے متعلق ہدایات: (۱) دشمنوں سے مقابلے کے لیے مادی، عسکری اور روحانی تینوں اعتبار سے تیار...

قرآن مجید کے بارھواں پارہ کے بارے میں ایک مختصر نوٹ

اس پارے میں دو حصے ہیں: ۱۔ سورۂ ہود مکمل (اس کی ابتدائی پانچ آیات گیارھویں پارے میں ہیں) ۲۔ سورۂ یوسف کا بقیہ حصہ (۱) سورۂ ہود میں چار باتیں یہ ہیں: ۱۔ قرآنِ کریم کی عظمت ۲۔ توحید اور دلائل توحید ۳۔ رسالت اور اس کے اثبات کے لیے سات انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات ۴۔ قیامت کا تذکرہ ۱۔ قرآن کی عظمت: (۱) قرآن اپنی آیات، معانی اور مضامین کے اعتبار سے محکم کتاب ہے اور اس میں کسی بھی اعتبار سے فساد اور خلل نہیں آسکتا اور نہ اس میں کوئی تعارض یا تناقض پایا جاتا ہے، اس کے محکم ہونے کی بڑی وجہ یہی ہے کہ اس کی تفصیل اور تشریح اس ذات نے کی ہے جو حکیم بھی ہے اور خبیر بھی ہے، اس کا ہر حکم کسی نہ کسی حکمت پر مبنی ہے اور اسے انسان کے ماضی ، حال ، مستقبل ، اس کی نفسیات ، کمزوریوں اور ضروریات کا بخوبی علم ہے۔ (۲)منکرین قرآن کو چیلنج دیا گیا ہے کہ اگر واقعی قرآن انسانی کاوش ہے تو تم بھی اس جیسی دس سورتیں بناکر لے آؤ۔ ۲۔ توحید اور دلائل توحید: ساری مخلوق کو رزق دینے والا اللہ ہی ہے، خواہ وہ مخلوق انسان ہو یا جنات ، چوپائے ہوں یا پرندے، پانی میں رہنے والی مچھلیاں ہوں یا کہ زمین پر رینگنے والے کیڑے...